ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے کانفرنس کا کامیاب انعقاد
نئی دہلی28جنوری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے خواتین و طالبات کیلئے نئی دہلی میں ’’تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ کانفرنس 2017 ‘‘ کازبردست کامیاب انعقاد آج ایوان ، غالب ، غالب انسٹی ٹیوٹ ،میں2 بجے دن عمل میں آیا۔کانفرنس میں پرانی، نئی دہلی اوراوکھلا کی خواتین و طالبات کثیر تعداد میں موجود تھی۔کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ محترمہ زینب مجاہدہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے درس قرآن پیش کیا۔ محترمہ زینت مہتاب رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے شریعت اسلامی کا تعارف اور اسکی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامی اللہ کا نازل کردہ دستور حیات ہے۔ اسمیں انسان کی پیدائش سے لیکر موت کی تمام امور میں رہنمائی و رہبری شریعت اسلامی آسان، سہل، قابل عمل ضابطہ حیات ہے۔ جس کے ہر پہلو میں خواتین کیلئے ہدایت، رحمت اور تحفظ ہے۔محترمہ عطیہ صدیقی صاحبہ ناظمہ جماعت اسلامی ہندو رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کے احکام مردوعورت دونوں کیلئے باعث رحمت ہے۔ہمارے خالق نے ہمارے فائدے کیلئے اسے نازل کیا۔ شریعت اسلامی ہمارے لئے اللہ کا احسان ہے۔اس سے انحراف اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا باعث بنتا ہے۔ خواتین مستقل مزاج ، عزم و حوصلے کے پکی ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو مصیبت و مشکل وقت میں استعمال کرے اور اسلامی تعلیمات کو سمجھ کر اپنے گھر کی اصلاح کرے تو پورے سماج میں ایک بہتر انقلاب رونما ہوسکتا ہے۔مسؤلہ ویمنس ونگ ڈاکٹر اسماء زہرہ نے تحفظ شریعت کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کے تحفظ اور بقاء کیلئے دو سمتوں میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ایک ملک کے دستور میں مسلم پرسنل لاء کو دی گئی ضمانتوں کا تحفظ، دوسری کوشش یہ کہ ہماری اپنی نجی ،عائلی، خاندانی، سماجی اجتماعی زندگی میں شریعت کا نفاذ۔انھوں نے کہا کہ شریعت اسلامی میں عورت و مرد دونوں کومساوی حقوق دئیے گئے ہیں اورنکاح میں لڑکی کی مرضی کولازم قرار دیا گیا ہے،حق وراثت میں مرد و عورت کے درمیان کسی طرح کا امتیاز نہیں ہے، بیٹیوں کی پرورش،تعلیم وتربیت پرجنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔شریعت اسلامی میں مسلم خواتین ہر طرح محفوظ ،مطمئن،اور خوش و خرم ہے۔شریعت اسلامی میں مردوعورت دونوں کے دائرے مقررہیں۔شریعت اسلامی میں کسی قسم کا Gender Bais نہیں ہے۔انھوں نے کہاکہ جس سماج میں جنسی امتیازہے وہاں رحم مادر میں بیٹیوں کو قتل کیا جاتا ہے۔ انکی پرورش کو بوجھ سمجھا جاتاہے۔ جہیز کے نام پر عورتوں کو جلایا جاتا ہے۔ جنسی تشدد اور Crimes Against Women ،Rape, Killing,Murders ایسے سماجوں میں بہت زیادہ ہیں۔اسکے مقابلے میں مسلم سماج میں عورتیں محفوظ ہیں۔ خواتین کے ساتھ حسن سلوک اور معروف طریقہ سے پیش آنے کا شریعت میں حکم ہے۔ مسلم معاشرہ عورتوں کو گھر کی نعمت سے نوازتا ہے اور عورتوں کو ماں، بہن ،بیٹی اوربیوی کی حیثیت سے باعزت مقام عطا کرتا ہے۔اسکے علاوہ اسلامی معاشرہ میں عورتوں کو نیکی، خیر ،فلاح کے کاموں میں برابر کا حق دیاگیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہیکہ ہماری مائیں وبہنیں شریعت اسلامی کے روشن پہلوؤں کو بغور مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کا ایک مضبوط لائحہ عمل ترتیب دیکر کر شریعت اسلامی کے علمبردار بن جائیں۔ شریعت اسلامی کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری مائیں اپنی زندگی کے عظیم مقصد کو سمجھ کر اپنی صلاحیت، وقت اور قابلیت کو اس کام میں لگائیں۔ محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ، رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نکاح نامہ کے گائیڈ لائنز پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نکاح رسول ﷺ اور انبیاء کی سنت ہے۔ اس لئے ضروری ہیکہ اسے مسنون طریقہ پر انجا م دیا جائے اور تمام خلاف شرع امور سے بچا جائے۔نکاح میں لڑکے یا اسکے سرپرستوں کی طرف سے نقد رقم ، جہیز یا اسکے مہمانوں کیلئے دعوت کا مطالبہ کرنا خلاف شرع اور سخت گناہ ہے۔نکاح کو آسان بنایا جائے اور فضول خرچی سے اجتناب کیا جائے، رسول ﷺ نے ایسے نکاح کو بابرکت قرار دیا ہے جس میں کم اخراجات ہوں۔ڈاکٹر عالیہ خلجی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مسلمانوں کو ہر روز نئے نئے چیالنجس کا سامنا ہے ایسے میں اصلاح معاشرہ ہماری ، آپ کی اور ملت اسلامیہ کی تمام خواتین کی ذمہ داری ہے۔ ہم معاشرہ میں سدھار چاہتے ہیں تو ہم کو شروعات اپنے گھر اور خود اپنے آپ سے کرنی ہوگی۔ معاشرے کی اصلاح افراد کی اصلاح سے ہی ممکن ہے۔ اور یہ اصلاح ہم اپنی زندگیوں میں اسلامی شریعت کے نفاذ سے لاسکتے ہیں ۔ اسکے علاوہ اہم عنوانات پر خواتین اراکین مسلم پرسنل لا بورڈ دیگر مقررات نے اس کانفرنس کو مخاطب کیا۔ اس کانفرنس میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین و طالبات نے شرکت کیں ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ویمنس ہیلپ لائن ٹول فری نمبر 1800 102 8426 کی خدمات سے خواتین کو واقف کروایا گیا، کنوینر تحفظ شریعت کانفرنس محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے عائلی تنازعات کو شریعت کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں اور مقامی دارالقضاء سے رجوع ہوں۔ دعاء پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔